بان[7]
معنی
١ - دھان کی پود کا مٹھا۔شبد ساگر، 3458:7 ٢ - ایک اونچا اور سرخی مائل سفید مضبوط لکڑی کا پہاڑی درخت جو سات ہزار سے نو ہزار فٹ تک کی بلندی پر پیدا ہوتا ہے اور خزاں سے متاثر نہیں ہوتا، بان براس۔ "سات ہزار فیٹ تک بان برانس اور ایار پیدا ہوتے ہیں" ( ١٩٠٦ء، تربیت جنگلات، ١٨ )
اشتقاق
ہندی زبان سے اردو میں داخل ہوا اور سب سے پہلے "آئین اکبری" ١٥٩٣ء میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - ایک اونچا اور سرخی مائل سفید مضبوط لکڑی کا پہاڑی درخت جو سات ہزار سے نو ہزار فٹ تک کی بلندی پر پیدا ہوتا ہے اور خزاں سے متاثر نہیں ہوتا، بان براس۔ "سات ہزار فیٹ تک بان برانس اور ایار پیدا ہوتے ہیں" ( ١٩٠٦ء، تربیت جنگلات، ١٨ )